بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآنی آیات والے اوراق کو ہاتھ لگانے کاحکم

سوال

مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ جس کاغذ پر کوئی قرآنی آیت لکھی ہو تو بے وضو اور جنابت کی حالت میں اس آیت کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔اور اس کاغذ کو ہاتھ لگا سکتے ہیں یا نہیں اس میں اختلاف ہے۔آپ مجھے بتایئے کہ کیا بے وضو اور جنابت کی حالت میں اس کاغذ کو ہاتھ لگا سکتے ہیں جس کتاب میں کوئی قرآنی آیت لکھی ہو اس کو بے وضو اور جنابت کی حالت میں ہاتھ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

کسی مضمون یاکتاب میں قرآنی آیات لکھی ہوئی ہوں  توجہاں آیت قرآنی لکھی ہو صرف اس جگہ ہاتھ لگاناممنوع ہے۔کتاب کے بقیہ حصے کوہاتھ لگاناجائزہے۔البتہ اگرچھوٹی سے چھوٹی آیت یعنی چھ حروف سے بھی کم ہوتوایک قول کے مطابق اس پرہاتھ لگانے کی گنجائش ہے۔حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی مذکورہ عبارت کاحاصل بھی یہی ہے کہ آیت کوبے وضواورناپاکی کی حالت میں ہاتھ نہ لگایاجائے۔البتہ بقیہ کاغذ کو ہاتھ لگاسکتے ہیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143702200012
تاریخ25-11-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں