بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تعداد رکعات مین شک ہوتوکیاحکم ہے؟

سوال

اگرکوئی شخص چاررکعت والی نمازمیں پہلی یادوسری رکعت میں بھول جائے کہ یہ اس کی کون سی رکعت ہے ،تواس کے لیے کیاحکم ہے؟

جواب

تعداد رکعات میں بھول جانے یاشک کی صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگریہ بھولناپہلی مرتبہ ہواہے تو نئے سرے سے  نمازپڑھے۔اگرباربارشک ہواکرتاہے (بھولتاہے)توپھرگمان غالب پرعمل کرناچاہیے،یعنی جتنی رکعتیں غالب گمان سے یادہوں اسی قدررکعتیں سمجھے کہ پڑھ چکاہے،اوراگرغالب گمان بھی کسی جانب نہ ہوتو اس صورت میں کمی کی جانب کواختیارکرے،مثلاً ظہرکی نمازمیں شک ہواکہ تین رکعات پڑھ چکاہے یاچار،اگرغالب گمان کسی طرف نہ ہوتواس کوتین رکعتیں شمارکرے۔اسی طرح طرح دویاایک رکعت میں شک ہوجائے اورگمان غالب نہ ہوتواس کوایک شمارکرے اوربقیہ رکعتیں پڑھ کرنمازمکمل کرے اورآخرمیں سجدہ سہوبھی کرے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143702200008
تاریخ24-11-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں