بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گروپ انشورنس کا حکم

سوال

ہماری کمپنی نے group ہیلتھ انشورنس شروع کی ہے،برائے کرم اس کے بارے میں بتائیں کہ کیا یہ جائز ہے؟

جواب

انشورنس کامروجہ طریقہ کارشرعاً ناجائزوحرام ہے،اس لیے کہ وہ اپنی اصل وضع کے اعتبارسے  یاتوقمار(جوا)ہے یا ربوا(سود)ہے۔جوااورسود دونوں کی حرمت قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ملازمین اس صورت میں صرف اسی قدرمیڈیکل کی سہولت اٹھاسکتے ہیں جس قدرکمپنی نے اپنے ملازم کے لیے انشورنس کی مدمیں رقم جمع کروائی ہے۔اس سے زائد فائدہ اٹھاناجائزنہیں ہوگا۔بقدررقم علاج معالجہ کراسکتے ہیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143702200001
تاریخ16-11-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں