بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مالدار اولاد کی قربانی کا حکم

سوال

غنی کی اولاد جب بڑی کاروباری ہو تو اس پر کن صورتوں میں قربانی لازم ہے اور کن میں نہیں ہے؟

جواب

جس شخص کے پاس بھی زکوۃ کے نصاب کے بقدر مال موجود ہو، چاہے اس پر ایک سال کا عرصہ گزرا ہو یا نہ گزرا ہو، اس پر قربانی فرض ہوتی ہے، لہذا اگر مذکورہ شخص کے پاس اتنا مال ہو تو اس پر قربانی فرض ہے، اور اس کی اولاد میں سے جس کے پاس  انفرادی طور پر اتنا مال ہو ان پر بھی قربانی فرض ہوگی، اولاد کی قربانی باپ پر فرض نہیں، البتہ اگر گھر کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے وہ اولاد کے علم میں لاکر ان کی طرف سے قربانی کرلے تو ان کا فرض ادا ہوجائے گا. واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143701200050
تاریخ12-11-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں