بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فاسق فاجر لوگوں کے ساتھ نماز کی ادائیگی

سوال

جولوگ سودا ورزنامیں مشغول ہیں ان کی زبانوں سے اپنی عزت بچانے کااندیشہ رہتاہے،یہ جمعہ کی نمازمیں اکھٹے ہوتے ہیں،کیاان کے ساتھ جماعت کرناجائزہے؟

جواب

برے کاموں میں مبتلا لوگوں سے دوررہنااوران کے شرسے بچنے کے لیے ان سے میل ملاپ نہ رکھنااس کی توشریعت میں اجازت دی گئی ہے،لیکن کسی شخص کوگناہ گارہونے کی بناء پرمسجدسے یاباجماعت نمازسے نہیں روکاجاسکتا۔اس لیے فاسق فاجرلوگوں کے ساتھ نمازپڑھنے سے بھی نمازاداہوجاتی ہے،ان کے ساتھ جماعت میں شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں۔البتہ ایسے لوگوں کوامام نہ بنایاجائے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143701200040
تاریخ06-11-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں