بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ دینے کے بعد اس میں سے کھانے کا حکم

سوال

سوال یہ ہے کہ کسی مدرسہ میں کوئی کھانابھیجاجائے اوراس میں سے کچھ حصہ مدرسہ والے بھیجنے والے کودیں توکیااس کاکھاناجائزہے؟یہی سوال اللہ کے نام پرکوئی کھانے کی چیزدینے کے بارے میں بھی ہے۔

جواب

اگرصدقہ کی نیت سے کوئی چیزکسی دینی ادارے میں دے دی جائے  تو اس ادارے کے طلبہ کاحق اس شئی کے ساتھ متعلق ہوجاتاہے،اس لیے اس میں سے کوئی حصہ واپس صدقہ دینے والے کونہیں دیاجاسکتا۔البتہ اگرکسی شخص کواللہ کے نام پرکوئی  چیزدی جائے اور وہ چیز مالک بناکردیئے جانے کے بعداگردینے والے کواس میں سے کچھ حصہ دیاجاتاہے تووہ لے سکتاہے ،اس سے صدقہ پرکوئی فرق نہیں پڑتا۔واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143701200037
تاریخ05-11-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں