بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر کی کم سے کم مقدار اور مہر کے دیگر مسائل

سوال

حقِ مہر کی کم از کم مقدار کیا ہے؟ اور حقِ مہر کی مقدار متعین کرنے کا  صحیح اور درست طریقہ کیا ہے؟حق مہر ادا کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟ مہر معجل اور مہر مؤجل کیا ہوتا ہے؟

جواب

شریعت میں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم ہیں، جو آج کل کے رائج حساب سےدو تولہ پونے آٹھ ماشہ چاندی کے برابر ہے۔

حق مہر متعین کرنے کے لیے مناسب یہ ہے کہ لڑکی کے خاندان کی دیگر لڑکیوں کا جو مہر مقرر کیا جاتا رہا ہے اسی کے بقدر متعین کردیا جائے، تاہم لڑکے اور لڑکی والے باہمی رضامندی سے اس سے کم یا زائد رقم متعین کرنا چاہے تو کر سکتے ہیں،البتہ دو تولہ پونے آٹھ ماشہ چاندی کی مالیت  سے کم نہ ہو۔

مہر کی ادائیگی کا درست طریقہ یہی ہے کہ حسب معاہدہ ادا کردیا جائے۔

"مہر موٴجل" اس کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی کے لیے کوئی خاص میعاد مقرّر کی گئی ہو۔  اور جس کی ادائیگی فوراً یا عورت کے مطالبے پر واجب ہو وہ ”مہرِ معجل“ ہے، مہرِ معجل کا مطالبہ عورت جب چاہے کرسکتی ہے، لیکن مہرِ موٴجل کا مطالبہ مقرّرہ میعاد سے پہلے کرنے کی مجاز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143701200034
تاریخ02-11-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں