بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹاون شب

سوال

میں نے ٹاؤن شپ سکیم میں زمین خریدی ہے۔یہ زمین پہلے بڑے سرمایہ کاروں نے خریدی تھا۔اور اب انہوں نے یہ زمین مجھے بیچ دی ہے۔ یہ زمین میں نے چار کروڑ میں خریدی ہے، جس کی ادائیگی میں اس زمین پر بنے پلاٹس کی فروختگی کے بعد ادا کروں گا۔اس زمین پر میں ٹاؤن شپ سکیم کے تحت کام کر رہا ہوں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ میں زکوۃ کی ادائیگی کس طرح کروں گا؟

جواب

چونکہ سائل نے یہ زمین بطور سرمایہ کاری خریدی ہے، اور اس زمین کو پلاٹس کی صورت میں آگے فروخت کرنے کا ارداہ رکھتا ہے، تو سائل پر اس زمین کی زکوۃ اس زمین کی موجودہ قیمت  فروخت کے اعتبار سے لازم ہوگی۔ چنانچہ مجموعی املاک کی مالیت کے حساب میں اس زمین کی موجودہ مالیت کی رقم شامل کر کے حساب کیا جائے گا۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143701200021
تاریخ23-10-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں