بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقت مقرر سے زیادہ کام کرنے پر ملازم کو مجبور کرنا

سوال

 آج کل دفتر میں دیر تک بیٹھنے پر زور دیا جاتا ہے، جب کہ اس تاخیر سے بیٹھنے پر کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔ کیا آفیسرز کے لیے ملازمین کو دیر تک بیٹھنے پر مجبور کرنا ٹھیک ہے؟ اور دیر تک نہ رکنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکی دینا کیسا طرز عمل ہے؟ شریعت کے مطابق رہنمائی فرمائیں۔

 

جواب

چونکہ ملازمین کی ملازمت کا ایک خاص وقت متعین ہے، اور اسی وقت کا انہیں معاوضہ دیا جاتا ہے، اس متعین وقت کے بعد ملازم کا بلامعاوضہ اضافی کام کرنا ملازم کی طرف سے ایک احسان ہے، جس پر ملازم کو شرعی اعتبار سے مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔ذمہ داران کو چاہیے کہ یا تو اضافی وقت کا معاوضہ متعین کریں، یا پھر ملازمین کو بلا جبر کام کرنے کا اختیار دیں۔ 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143612200021
تاریخ28-09-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں