بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جامعہ بنوری ٹاؤن کو کھالیں کیوں دی جائیں؟

سوال

بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے پاس فنڈ کی کمی نہیں، انہیں کھالوں کی کیا ضرورت ہے؟ کھالیں دیگر غریب مدارس میں دینی چاہئیں۔ اس کا کیا جواب دیا جائے؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب

کھالوں کا بہترین مصرف ہونے کے اعتبار سے جامعہ اور دیگر تمام دینی مدارس کے مستحق طلبا برابر ہیں، قربانی کرنے والے اہل خیر اس سلسلے میں خود مختار ہیں کہ جس تعلیمی ادارے کے متعلق وہ یقین رکھتے ہوں کہ وہاں ان کی کھال صحیح مصرف میں استعمال ہوگی اور اس ادارے کو مالیات کے سلسلے میں تعاون کی ضرورت ہے وہ اس ادارے کو کھال دے سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا کہ جامعہ کو فنڈز کی ضرورت ہی نہیں ہے، تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن ایک وسیع الخدمات دینی تعلیمی اور غیر سیاسی ادارہ ہے جہاں مختلف اہل خیر حضرات اپنے اعتماد اور جامعہ کے شفاف نظام مالیات کے پیش نظر  الحمد للہ مختلف مدات میں تعاون بھی کرتے ہیں، البتہ جو ادارہ جتنے بڑے  پیمانے پر خدمات میں مصروف ہو اور جہاں کثیر تعداد میں طلبا زیر تعلیم ہوں اس ادارے کی ضروریات بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہیں اور اس ادارے کو مالیاتی تعاون کی ضرورت بھی اسی قدر زیادہ ہوتی ہے، اس لیے فنڈز کی ضرورت بہرحال جامعہ کو رہتی ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143612200006
تاریخ17-09-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں