بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جائز کام کروانے اور حق وصول کرنے کے لیے بوجہ مجبوری پیسے دینا

سوال

آج کل ہر جگہ جائز کام کروانے کے لیے بھی پیسے لیے جاتے ہیں، سڑک پر ٹریفک پولیس بھی پیسے لے کر چھوڑتی ہے۔ کیا اس طرح پیسہ دے کر کام نکلوانا ائز ہوگا؟

جواب

اگر کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے یا کاغذات نامکمل ہیں اور ٹریفک اہلکار کو کچھ دے کر جان چھڑائی تو رشوت کا گناہ ہوگا اور اگر اپنے جائز اور ضروری حق کے وصول کے لیے رقم دی تو یہ پیسے لینے والے کے لیے تو حرام ہوں گے، جب کہ دینے والے کے لیے، چونکہ وہ اپنے حق کی وصول یابی کے لیے پیسے دے رہا ہے، اس لیے  گنجائش ہوگی۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143611200029
تاریخ11-09-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں