بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حق کی وصولی کے لئے رشوت دینے کا حکم

سوال

 

آج کل  پبلک ڈیلنگ کے ہر ادارے میں پیسہ مانگا جاتا ہے،،پیسہ دئیے بغیر ایمبولینس تک نہیں ملتی، دیا جائے تو کام ہوتا ہے ورنہ اٹک جاتا ہے، ایسی صورت حال میں کیا پیسے دے کر کام کروانا جائز ہوگا؟

جواب

صریح حدیث کی رو سے رشوت کا لینا دینا ناجائز وحرام ہے، اس لئے حتی الامکان رشوت سے بچنا واجب ہے، البتہ اگر  باوجود حقدار ہونے کے رشوت دئیے بغیر  کام نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اپنے حق کی وصولی کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہے، رشوت لینے والے کے لئے وہ مال حرام ہی ہوگا، واللہ اعلم!

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143611200019
تاریخ04-09-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں