ملازمت میں دیر تک روکنے کا حکم
سوال
ایک شخص کسی ادارے میں یا کہیں بھی کام کرتا ہو اور اس کو اس کے انچارچ بلاضرورت دیر تک بیٹھنے پر مجبور کرتے ہوں تو شرعا کیا کرنا چاہیے؟ کیا ان کا حکم ماننا ضروری ہے؟
جواب
کسی بھی ادارے کے ابتدائی معاہدے کی رُو سے ڈیوٹی کا جتنا وقت طے ہو اس کی پابندی شرعا واجب ہے، اور اس میں کوتاہی جائز نہیں، اس سے شاید وقت دینا شرعا لازم نہیں، اور بلاضرورت ادارے یا انچارج کا اس پر مجبور کرنا بھی درست نہیں، البتہ ادارے کی کسی ضرورت کی بنا پر ادارہ کی منتظمہ یا انچارج دیر تک رکنے کا کہے تو اخلاقا اس کی بات ماننی چاہئیے. واللہ اعلم!
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

