بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی رکھنے کا حکم

سوال

کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کی داڑھی نہیں ہو ؟ قرآن و حدیث میں اس حوالے سے کیا دلائل موجود ہیں ؟

جواب

حدیث  میں داڑھی کا بڑھانا انسانی فطرت سلیمہ کا حصہ قرار دیا گیا ہے، یعنی ایک سلیم الفطرت شخص داڑھی نہیں کٹوا سکتا۔  انبیا کرام تمام کے تمام سلیم الفطرت ہیں۔قرآن کریم میں سیدنا ہارون علیہ السلام کی داڑھی کا ذکر ملتا ہے، اس سے اہل  علم نے استدلال کیا ہے کہ داڑھی انبیا کی سنت ہے۔ نیز کئی روایات میں داڑھی کو چھوڑ رکھنے کا حکم وارد ہوا ہے۔ ان دلائل کی روشنی میں فقہا نے داڑھی کو چھوڑ رکھنے کو واجب قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں انبیاء کرام علیھم السلام ایسے جسمانی عیب سے محفوظ رہتے ہیں جسسے ان کی تبلیغ ودعوت میں فرق آتا ہو۔اس اصول کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ہر نبی کی داڑھی ہونی چاہیے کیونکہ انبیاء توکامل الخلقت بلکہ حسین الخلقت ہوتے ہیں اور داڑھی مرادنگی کی علامت اور حسن میں اضافہ کا ذریعہ ہے۔مزید یہ ہےکہ کتب میں داڑھی کو تمام کی مشترکہ سنت قرار دیا گیا ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143610200018
تاریخ26-07-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں