بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اہل حق کی پہچان کیا ہے؟

سوال

ایک سوال پریریشان کررہاہے کہ اگرکوئی سوال کرے کہ تمام فرقوں میں سے کون حق پر ہے؟توجواب دیتے ہیں کہ جوقرآن وسنت پر عمل پیراہو،اب اگروہ پوچھتاہے کہ اگروہ قرآن وحدیث سے جاہل ہوں تو ؟ اب اس کاکیاجواب دیاجائے گا؟نیز اہل حق کی نشانی کیا ہے؟

جواب

اہل حق کامصداق وہ حضرات ہیں جوصحابہ وتابعین کے مسلک پر ہوں،جن کی تعبیر من کان علی السنۃ والجماعۃ یا ماأنا علیہ واصحابی سے حدیث میں آئی ہے،

حکیم الامت مولانااشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

اہل حق وباطل کے درمیان دوسرافرق وہ ہے جس کو خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایاہے،جس حدیث میں تہترفرقوں کا بیان ہے اوراس میں یہ بھی ہے کہ ایک ناجی ہے اورباقی سب ناری،اس پر صحابہ نے عرض کیا من ھم یا رسول اللہ یہ کون سافرقہ ہے جو ناجی ہے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کون سہل اوراچھا جواب دے سکتاہے فرمایا:ماأناعلیہ واصحابی‘‘۔یعنی ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اس مسلک پر ہونگے جومیرااورمیرے صحابہ کا ہے ۔یعنی میرااورمیرے صحابہ کااتباع کریں گے،یہ ایک ایسی پہچان ہے کہ اس سے بہت ہی سہولت سے اہل حق اوراہل باطل میں فرق کیاجاسکتاہے،اب یہ دیکھ کیاجائے کہ کس کے اقوال وافعال حضوراورصحابہ کے اقوال وافعال سے ملے ہوئے ہیں،کھینچ تان کرکسی بات کا ثبوت حاصل کرلینااوربات ہے......ثبوت حقیقی وہ ہے جوبے تکلف ہو اوراس میں کھینچ تان کی اصلاً ضرورت نہ ہو،[خطبات حکیم الامت،جلد:26،صفحہ:41،عنوان:اصلاح اعمال،مطبوعہ:ادارہ تالیفات اشرفیہ لاہور]فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143610200006
تاریخ18-07-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں