بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں ترتیب ارکان کی حیثیت،مقتدی سے اگرایک رکن چھوٹ جائے توکیاحکم ہے؟

سوال

اگرامام عیدکی نمازپڑھارہاہواورمقتدی رکوع کی بجائے سجدے میں چلے جائیں اورجب امام سجدے میں جائے تو مقتدی پھرپہلے رکوع کرکے پھرسجدے میں جائیں توآیامقتدیوں کی نمازہوجائے گی یانہیں؟

نیز فرض نمازمیں ارکان کی ترتیب آگے پیچھے کرنے سے نمازہوجاتی ہے یانہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں جب نمازکے اندرہی مقتدیوں نے رکوع اداکرلیااورپھرامام کے ساتھ سجدہ میں شریک ہوگئے توان کی نماز درست ہے ۔[فتاویٰ شامی،جلد:1،صفحہ:471،کتاب الصلوۃ،باب الامامۃ،مطلب مھم فی متابعۃ الامام،مطبوعہ:ایچ ایم سعید کراچی]

۲۔نمازی کے لیے قرأت،رکوع،سجدہ میں ترتیب قائم رکھناواجب ہے،یعنی پہلے تکبیرتحریمہ،پھرقیام پھررکوع اورپھردونوں سجدے اورآخری قعدے میں ترتیب واجب ہے۔[فتاویٰ شامی، کتاب الصلوۃ،مطلب کل شفع من النفل صلوۃ، جلد:1،صفحہ:460-461،مطبوعہ:ایچ ایم سعیدکراچی۔فتاویٰ ہندیہ،جلد:1،صفحہ:71،الفصل الثانی فی واجبات الصلوۃ،مطبوعہ:مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ]فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143610200003
تاریخ18-07-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں