عورتوں کا عبادت کی غرض سے اجتماع کا حکم
سوال
رمضان میں طاق راتوں میں عورتیں ایک مخصوص جگہ اکٹھی ہوتی ہیں، طاق رات کی عبادت کی غرض سے، تراویح کے بعد، حمد و نعت کے بعد، پھر لیلۃ القدرکے بارے میں بیان ہوتا ہے، پھر لمبی چوڑی سی دعا ہوتی ہے. اور یہ محفل آدھی رات تک چلتی ہے. سحری سے تقریبا ایک گھنٹہ پہلے ختم ہوتی ہے. کیا عورتوں کا اس طرح جمع ہونا عبادت کی غرض سےدرست ہے؟
جواب
محض اجتماع عورتوں کا ممنوع نہیں ہے،اگرعورتیں کسی جگہ جمع ہوں اوراجتماع کی غرض وغایت مفیدہوتوشرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے،لیکن جہاں تک عبادات کاتعلق ہے توشریعت نے عورتوں کی انفرادی اورگھرکی چاردیواری ہی میں عبادت اورطاعات کی بجاآوری کومستحسن سمجھاہے،اوربلاضرورت شدیدہ عورتوں کوگھرسے نکلنے سے منع فرمایاہے،اوران کواپنے گھروں میں نمازپڑھنے کاحکم دیاگیاہے،اورگھرمیں نمازپڑھنے کو محلہ کی مسجداورمسجدنبوی سے بھی بہترقراردیاگیاہے۔[کفایۃ المفتی،کتاب العلم،جلد:دوم،صفحہ:68،مطبوعہ: دارالاشاعت کراچی][فتاویٰ شامی،باب الامامۃ،جلد:1،صفحہ:565،مبطوعہ:ایچ ایم سعیدکراچی]فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

