بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داماد کا ساس کو یا سسر کا بہو کو شہوت سے چھونے کا حکم

سوال

اگر داماد ساس کو یا سسر بہو کو غلط نیت سے چھولیں تو کیا حکم ہے ؟

جواب

ساس کو شہوت سے ہاتھ لگانے سے بیوی حرام ہوجائیگی اور ، اسی طرح بہو کو شہوت سے چھولینے سے بہو بیٹے پر حرام ہوجائیگی، البتہ الفاظ طلاق کہہ کر یا زبانی متارکت لازم ہوگی، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143609200022
تاریخ05-07-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں