بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دینی معاملات میں عقل کا استعمال

سوال

کیا ہم دین کے معاملات میں عقل استعمال کرسکتے ہیں؟ اگر کرسکتے ہیں تو کن معاملات میں اور کس حد تک؟

جواب

واضح رہے کہ دینی معاملات اور شرعی احکامات وحی الہی کے تابع ہیں اور وحی کا آغاز ہی وہیں سے ہوتا ہے جہاں جا کر انسانی عقل کی انتہاء ہوجاتی ہے، اس لیئے دینی معاملات میں عقل کا استعمال اور عقل کی پیروی بےعقلی کی دلیل ہے ۔ایک مسلمان کی کامیابی اور سعادت اسی میں ہے کہ خود کو وحی الہی کا تابع بنائے، خواہ وہ اس کی عقل میں آئے یا اس کی عقل سے بالاتر ہو،عقل پرستی کا شکار ہوگا تو دنیا وآخرت دونوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143609200020
تاریخ05-07-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں