بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر صحابی کے لیئے رضی اللہ عنہ کا استعمال

سوال

 یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا غیر صحابی کو رضی اللہ عنہ کہنا جائز ہے ؟ اگر جائز ہے تو اس کی کیا دلیل ہے ؟ جزاک اللہ

جواب

رضی اللہ عنہ ایک دعایئہ کلمہ ہے جس کے معنی ہیں اللہ ان سے راضی ہوجایئے۔ عرف کے اعتبار سے یہ کلمہ صحابہ کے لیئے استعمال ہوتاہے لیکن اپنے دعائیہ مفہوم کے اعتبار سے غیر صحابی کے لیئے بھی استعمال ہوسکتا ہے بشرطیکہ التباس لازم نہ آتا ہو۔ قرآن کریم کی سورۃ بینہ پارہ ۳۰ میں نیکو کار مومنین کے لیئے ارشاد فرمایا گیا ہے رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ  ۔آج کل عوام الناس اس کلمے کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہی ساتھ خاص سمجھتے  ہیں اور ان کا دھیان اس جملے سے صحابہ کی طرف جاتا ہے اس لیے ان کے سامنے غیر صحابی کے لیے اس جملے کے استعمال سے گریز اچھا ہے۔

 واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143609200019
تاریخ04-07-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں