بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز اور روزے کی فرضیت کی عمر

سوال

نماز تو سات سال میں فرض ہو جاتی ہے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ روزہ کتنی عمر میں فرض ہوتا ہے؟

جواب

نماز اور روزہ دونوں بالغ ہوجانے کے بعد ہی فرض ہوتے ہیں۔بلوغت یہ ہےکہ لڑک کو احتلام یا انزال ہوجائے اور لڑکی کو حیض آجائے یا وہ حاملہ ہوجائے،اگر ان علامات میں سے کوئی بھی ظاہر نہ ہو تو پندرہ سال کی عمر میں دونوں بالغ سمجھیں جائیں گے، البتہ بچپن ہی سے بچوں کو نماز اور روزہ کا شوق دلا کر ، اور مناسب انداز میں سختی کر کے انہیں ان اہم عبادات کا پابند بنانا چاہیے تاکہ بالغ ہونے تک نماز پڑھنے اور روزے  رکھنے کی پختہ عادت بن جائے چنانچہ حکم یہ ہےکہ سات سال کی عمر میں بچوں کی نماز کی تاکید کی جائے اور دس کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پرسرزنش کی جائے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143609200014
تاریخ02-07-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں