بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دادا پر پوتوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا

سوال

۱: نابالغ بچوں کے پاس اپنی ملکیت کچھ نہیں۔ اگر ان کا باپ غریب ہو، صاحب نصاب نہ ہو لیکن ان نابالغ بچوں کے دادا مالدار ہو تو کیا ایسی صورت میں دادا پر اپنے نابالغ غریب پوتوں پوتیوں کی طرف سے عید الفطر کے دن صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوجائے گا؟ ۲: اگر نابالغ بچوں کے پاس اپنا کچھ نہ ہو، ان کے باپ کا انتقال ہو چکا ہو اور ان کے دادا مالدار ہوں تہ کیا ایسی صورت میں داد پر اپنے نابالغ پوتوں اور پوتیوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہوجائے گا؟

جواب

1،2: مفلس و غریب باپ کے زندہ ہونے کی صورت میں دادا پر اپنے پوتوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا لازم نہیں ہے۔اور اگر باپ زندہ نہیں ہے، تو داد اپر اپنے یتیم پوتوں کا صدقہ فطر  اداکرنا لازم ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143608200032
تاریخ07-06-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں