بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشاء کا مکروہ وقت

سوال

عشاء کی نماز کامکروہ وقت رات کا آخری تہائی کہاجاتاہے،اس سے کونساوقت مرادہے؟

جواب

 مغرب کا وقت ختم ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور ایک تہائی رات تک عشاء کامستحب وقت رہتا ہے اور اس کے بعد مباح اور آدھی رات کے بعد مکروہ وقت ہوتا ہے، کتب فقہ وفتاوی میں جو کچھ لکھا ہے یہ اس کا خلاصہ ہے۔طریقہ یہ ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد صبح صادق تک جتنا وقت ہو اس کو دو برابر حصوں میں تقسیم کردیں تو پہلے حصے میں نماز مباح ہوتی ہے اور دوسرے حصے بلاعذر تاخیر کرنا کراہت کا باعث ہوتا ہے اور اگر کوئی عذر ہو تو پھر بلاکراہت صبح صادق سے پہلے تک عشاء کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

“تاخیر  العشاء  الی ماقبل ثلث  اللیل  التاخیر  الی  نصف  اللیل  مباح  لان  دلیل  کراھتہ  ھو تقلیل  الجماعہ  والی  النصف  الخیر  مکروہ ۔ ( ہدایہ  :1/81)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143608200022
تاریخ30-05-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں