بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھنوئی سے پردہ کرتے ہوئے بھن کے گھر پر قیام کرنا

سوال

عورت کااپنی بہن کے گھر رات گذارنا یادن کو رہنا جبکہ وہ بہنوئی سے شرعی پردہ تو کرے مگر اسکے ساتھ کوئی محرم مردنہ ہو ،کیاایسے کرناجائزہے؟

جواب

جب پردہ کا اہتمام ہو، شوہر کی اجازت ہو نیز کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور بہن کا گھر شرعی مسافت سفر یعنی سوا ستتر کلومیٹر کے فاصلہ سے کم پر واقع ہو تو بغیر محرم کے بھی بہن کے گھر جاکر رات گزارنے یا دن میں قیام کرنے کی گنجائش ہے۔ مگر آج کا دور فتنوں کا دور ہے اس لیے بہنوئی کے گھر قیام میں سخت فتنہ کا اندیشہ ہے اس لیے بہنوئی کے گھر قیام سے گریز کیا جائے اور گر بہنوئی قیام پر راضی نہیں تو قیام ناجائز ہوگا کیونکی شوہر کو حق ہے کہ وہ بیوی کے رشتہ داروں کو  اپنے ہاں ٹھہرنے سے منع  کرے۔نیز بیوی کے رشتہ دار سال میں صرف ایک  ہی مرتبہ اس سے ملاقات کا حق رکھتےہیں۔اگر اس سے زیادہ ہو تو شوہر کو روکنے کاحق ہے۔واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143608200019
تاریخ30-05-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں