بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رہائش کے لیے پلاٹ خرید کر اس میں رہائش اختیار نہ کرنا

سوال

ایک پلاٹ ہم نے بنیت رہائش کے لیا تھا، ازاں بعد ہم نے دوسری جگہ رہائش اختیار کر لی ہے، کیا اس پہلے خریدے پلاٹ پر زکوۃ ہوگی۔

جواب

اگر اس پہلے پلاٹ کو، جو رہائش کی نیت سے لیا تھا اور ازاں بعد اس پلاٹ پر رہائش کا ارادہ بدل گیا ہے،تو اس پر زکوۃ نہیں جب تک اسے بیچ نہ دیں گے۔

فی المحیط البرہانی: ثم نیۃ التجارۃ لا تعمل ما لم ینضم الیہا الفعل بالبیع والشراء او السوم فیما یسام۔(3/165)

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143607200018
تاریخ28-04-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں