بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے لیز پر گاڑی خریدنا

سوال

کیا اسلامی بینک ، مثلاً :بینک اسلامی، میزان ، برج سے گاڑی  لِیز پر لینا جائز ہے ؟ یہ بنک گاڑی کی قیمت کا 20 سے 50 فیصد ایڈوانس میں لے کر3 یا5 سال کے لیے آپ کو فکس ماہانہ کرائے پر دیتے ہیں اور مدت پوری ہونے کے بعد آپ کی ایڈوانس رقم کے بدلے میں ایگریمنٹ میں آپ کو گاڑی بیچ دیتے ہیں اور گاڑی آپ کی ملکیت ہو جاتی ہے۔ گاڑی فیملی کے لیے ضرورت کے تحت خریدنا چاہتا ہوں ، ایک ساتھ پوری رقم جمع کرنا مشکل ہے۔

جواب

ہماری معلومات اور تحقیق کے مطابق  مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے   کسی بھی بینک کے ذریعہ  مذکورہ طریقے کے مطابق (کہ ابتداءً اجارہ اور انتہاءً بیع ہو)گاڑی کی خریداری درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143607200015
تاریخ27-04-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں