بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرکاری اجازت کے بغیر کاروبار کرنا

سوال

گورنمنٹ کی اجازت کے بغیر کاروبار کرناجائزہے؟یعنی لائسنس حاصل کیے بغیر؟کیااس سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی یاحرام؟لائسنس کے بغیرٹیکس بھی نہیں دیاجاسکتاتوبغیرٹیکس دیئےآمدنی حلال ہوگی یاحرام؟جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

کاروبار کی نوعیت اگر ایسی ہے کہ اس میں خاص شرائط اور مہارت  ضروری ہے اور اس مہارت اورشرائط کے حصول کے لیے گورنمنٹ نے لائنسس کاحصول ضروری قراردیا ہو توپھر گورنمنٹ سے لائنسس حاصل کیے بغیر وہ کاروبارجائز نہیں ۔اور اگر کاروبار  حساس نوعیت کانہیں  بلکہ عام سا کاروبار ہے مگرگورنمنٹ کا قانون مفادعامہ پر مشتمل ہے تو اس کی رعایت رکھنی چاہیے اورخلاف ورزی سے گریز کرنا چاہیے،  کیوں کہ خلاف ورزی میں عزت نفس کے مجروح ہونے کا خطرہ موجودرہتاہے۔آمدنی کاتعلق خود کاروبار کے جائز ہونے یا ہونے سے ہے اگر کاروبارجائز ہے تو آمدنی حلال ہے۔(امدادالفتاویٰ4/140-فتاویٰ مفتی محمود11/169) فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143607200008
تاریخ26-04-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں