بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین ماہ کا حمل ضائع ھوجائے تو آنے والے خون کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتی صاحبان اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر عورت کا حمل 3ماہ کا ہو کر ضائع ہو جا تا ہے اور ضائع ہونے سے 2یا3 دن پہلے خون جاری ہوجائے تو اس خون کا کیا حکم ہے شرعی احکامات کی ادائیگی میں؟

جواب

تین ماہ کا حمل ضائع ہوجائےتو حمل کی حالت میں آنے والا خون استحاضہ کا ہوگا ،نماز روزہ  کی ممانعت نہیں ہوگی،اور حمل ضائع ہونے کے بعد آنے والا خون عادت کے مطابق حیض کا ہوگا اور دس دن سے بڑھنے کی صورت مٰیں عادت سے زائد استحاضہ کے دن شمار ہونگے۔ واللّہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143606200018
تاریخ18-04-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں