بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیع عینہ کی ایک صورت

سوال

ہمارے پاس ٹریکٹر کا شوروم ہے۔اگر کوئی گاہک ہم سے ادھار کچھ مہنگی قیمت میں ٹریکٹر لیتا ہے تو ہم اس کو ٹریکٹر کی چابی دیتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں کہ آپ اپنا ٹریکٹر لے جا سکتے ہیں۔ وہ ہم سے چابی لیکر کسی اور کو نقد قیمت میں فروخت کردیتا ہے اور اس سے نقد پیسے لیکر ٹریکٹر کی چابی اس کو دیتا ہے اور اس کو کہتا ہے کہ لے جانا چاہو تو لے جا سکتے ہو۔ وہ اگلا خریدار بھی ٹریکٹر کو نہیں لے جاتا اور وہ اگلا خریدار ہمیں نقد قیمت پر وہ ٹریکٹر بیچتا ہے اور ہمیں اس ٹریکٹر کی چابی دیتا ہے۔ کیا اس طرح ہمارے لیے اپنے خریدار کے خریدار سے ٹریکٹر لینا جائز ہے؟ جبکہ وہ ٹریکٹر ہمارے شوروم میں ہی کھڑا ہوتا ہے۔ ہم ان کے حوالے کر دیتے ہیں کہ اب آپ کی چیز ہے آپ جہاں لے جانا چاہو جو کرنا چاہو۔ وہ صرف چابی ہاتھ میں لیتے ہیں، ٹریکٹر نہیں لے جاتے ، لے جانا چاہیں تو کوئی رکاوٹ نہیں۔

 
 

جواب

سوال میں مذکور کاروابار کی صورت مکروہ تحریمی ہے۔جس سے اجتناب لازم ہے۔

 
 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143606200007
تاریخ22-03-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں