بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ریاض میں مقیم شخص کا والدہ اوراہلیہ کے بغیرحج کرنا

سوال

میں ریاض سعودی عرب میں رہتاہوں،میں اپنی اہلیہ اوروالدہ کے بغیرحج کرناچاہتاہوں۔اس سلسلہ میں آپ کی رائے درکارہے۔

 
 

جواب

حج کی فرضیت کے لیے استطاعت حج کاہوناضرروی ہے،اگراستطاعت ہے اورحکومتی قوانین کے مطابق اجازت بھی حاصل ہے توسائل والدہ اوراہلیہ کے بغیربھی حج کرسکتاہے۔والدہ اوراہلیہ کی عدم موجودگی یاان کے حج نہ کرنے سے سائل کے فریضہ پرکوئی اثر نہیں پڑتا۔البتہ اگرملکی قوانین کی خلاف ورزی یااحکام شرعیہ کی خلاف ورزی کامرتکب ہوناپڑتاہوتوپھردرست نہیں۔(آپ کے مسائل اور ان کاحل 5/261،ط: مکتبہ لدھیانوی)

 
 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143605200032
تاریخ22-02-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں