اسلامی بینک سے قرض لینے کاحکم
سوال
اسلامی میزان بینک یا برج بینک وغیرہ سے قرض لینا علماء بنوری ٹاؤن کے نزدیک جائزہے یانہیں؟
جواب
مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات ہمارے علماء کی اب تک کی تحقیق کے مطابق اسلامی اور غیرسودی نہیں ہیں ، اس لیے اگر قرض لینے کی صورت میں ادائیگی کے وقت اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے تو یہ سودی قرض ہوگا اور مروجہ اسلامی بینک سے بھی ایسا قرض لینا جائزنہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143605200030
تاریخ22-02-2015

