بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کنڈوم کے استعمال کا حکم

سوال

کنڈوم کا استعمال جائز ہے تاکہ حمل نہ ٹھرے؟

جواب

واضح رہے کہ کثرت اولاد ترغیبات شریعہ میں سے ہونے کے ساتھ ساتھ نکاح کے منجملہ مقاصد میں سے ایک اہم مقصد بھی ہے اس لیئے بلاضرورت کوئی بھی ایسا ذریعہ استعمال کرنا جو مانع حمل ہو ناپسندیدہ عمل ہے، تاہم اگر عورت کمزور ہو اور اس کی صحت حمل کی متحمل نہ ہو یا بچے ابھی چھوٹے ہوں تو عارضی طور پر کنڈوم یا کسی بھی مانع حمل تدبیر کے اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143605200027
تاریخ22-02-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں