بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل میں قرآن مجید ہوتواسے بیت الخلا میں لےجانے کا حکم

سوال

1: موبائل میں چیزیں ڈاؤن لوڈ کیں، جیسے قرآن ٹیکسٹ۔ وہ بظاہر توقرآن ہوتاہے مگراس کی اصل شکل کوڈنگ ہوتی ہے، جیسے 0012وغیرہ۔ کیا ایسی حالت میں موبائل کو باتھ روم لے جاناٹھیک ہوگا؟2:اگربالفرض کوڈنگ والی چیز جائزہو جیسے قرآن یا اسلامی بکس تواس کے ساتھ اگرکسی نے موبائل میں سانگز بھی رکھے ہوں تو کیساہے؟ کیا اسے ایک ہی موبائل میں رکھاجاسکتاہے؟

جواب

موبائل میں مکمل قرآن مجید یا قرآن پاک کی کوئی سورت یا کوئی آیت ڈسپلے/اسکرین پرنقوش کی صورت میں ظاہرہو تواس حالت میں بیت الخلا میں موبائل لے جانا جائزنہیں ہے۔ اور اگرموبائل کی میموری میں توکوڈنگ کی شکل میں موجود ہو لیکن نقوش اسکرین پرظاہرنہ ہوں تواس حالت میں بیت الخلا میں موبائل لے جاسکتے ہیں۔2: گانے وغیرہ اور ہروہ چیز جوشرعاً ناجائزہو موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرنا /رکھناجائزنہیں ہے، خواہ موبائل میں قرآن موجود ہو یانہیں ہو، کسی مسلمان کویہ زیب نہیں دیتاکہ وہ اپنے ارادے اور اختیارسے اس طرح کی ممنوعہ چیزیں موبائل میں محفوظ کرے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143605200025
تاریخ14-03-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں