قتل عمد کے بعد بھی توبہ قبول ہوجائے گی
سوال
اگر کوئ شخص متعمداً قتل کرلے اور پھر توبہ کرلے تو اس شخص کی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب
جان کرقتل کرنے والے شخص کی توبہ صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ صدق دل سے توبہ کرنے کے ساتھ اپنے آپ کو مقتول کے اولیا(ورثا) کے حوالے کردے، البتہ مقتول کے اولیاء کو حق ہوگاکہ وہ چاہیں توقصاص لیں یا اپنی رضامندی سے بغیرعوض کے یا دیت وغیرہ کے عوض صلح کرکے معاف کردیں۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143605200013
تاریخ22-02-2015

