بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد رجوع

سوال

ایک عورت نے ایک مرد سے نکاح کیا رخصتی نہیں ہوئی مگر دونوں کی ملاقات ہوی تنہائی میں۔ ایک هفتے کے بعد اس عورت نے اس شخص سے طلاق لے لی جو اس شخص نے دے دی 3 مرتبہ زبانی اور لکھ کر بھی۔ تو کیا اب رجوع کا اختیار ہے جبکہ عورت رجوع نہیں کرنا چاہتی تھی اور مرد ڈرا دھمکا کر دوبارہ نکاح کر چکا ہے اسی عورت سے اب شریعت کیا کہتی ہے

جواب

جب شوہر تین مرتبہ طلاق دے چکا ہے، تو اب رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے، اور ان تین طلاقوں کے دینے کے بعد جو نکاح کیا ہے، وہ کالعدم ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143605200002
تاریخ22-02-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں