بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کوایک شہرسے دوسرے شہرمنتقل کرنا

سوال

پوچھنایہ ہے کہ میں نے کتابوں میں پڑھاہے کہ میت کوایک شہرسے دوسرے شہرمنتقل کرناجائزنہیں ہے،حالانکہ میں نے کئی علماء کے بارے میں پڑھاہے کہ ان کی میت کوبھی منتقل کیاگیاہے، حضرت علامہ یوسف بنوریؒ کی میت کوبھی کراچی منتقل کیاگیاہے ،برائے مہربانی یہ مسئلہ حل فرمادیں۔

جواب

کسی شخص کاانتقال اگردورانِ سفرہویااگرکسی شہرمیں علاج معالجہ کے لیے لے جایاگیاہواوراس دوران وہ فوت ہوجائے،یااگرکسی مقام پرکسی شخص کے انتقال کے بعداس کی تدفین میں مشکلات ہوں تومذکورہ امورکی بنا پرمیت کے منتقل کرنے میں حرج نہیں ہے۔بلاضرورت میت کوایک شہرسے دوسرے شہرمنتقل کرناخلاف اولیٰ اورمکروہ ہے۔ [فتاویٰ شامی،1/663،ط:ایچ ایم سعیدکراچی][مراقی الفلاح: 337،کتاب الجنائز،فصل فی حملہاودفنہا]

بہر  میت منتقل کرنے میں اقوال مختلف ہیں، مفتی بہ یہ ہے کہ مسافتِ  قصر  کی مقدار  انتقالِ میت  مکروہ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143604200020
تاریخ22-01-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں