بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انبیاء کی شبیہ بنانے کا حکم

سوال

بورڈ پر انبیاء کا ہنسی والا چہرہ یا رونے والا چہرہ بنانا اور یہ کھنا کہ نبی ہنستے بھی تھے اور روتے بھی تھے، کیا یہ انبیاء کی شان میں گستاخی ہے یا نہیں؟

 
 

جواب

واضح رہے کہ تصویر یا خاکہ سازی بذات خود گناہ کبیرہ ہے ،پھر انبیاء کرام علیہم السلام کی فرضی تصویر اور شبیہ بنانا جس میں ان کو ہنستے یا مسکراتے ہوئے بھی دکھلایا گیا  ہو،سخت توہین  اور بے ادبی ہے اور ناجائز وحرام ہے۔۔ واللہ اعلم

 
 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143602200034
تاریخ10-12-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں