بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث

سوال

میرے ایک قریبی رشتہ دار کو ورثہ کی تقسیم کی مد میں آپ سے جواب درکار ہے۔ اس رشتہ دار کے ماں باپ کا انتقال ہو چکا ہے ۔ اس کی دو 2 بہنیں اور بشمول اس کے تین 3 بھائیہیں۔ ان کا ایک مکان ہے جس کی مالیت 15 لاکھ ہے جس پر بجلی کے واجبات تقریبا ایک لاکھ ہے لہذا مکان کی مالیت اب 14 لاکھ روپے ہے۔ برائے مہربانی بتائیں کہ اس کی تقسیم کیسے ہوگی۔

 
 

جواب

صورت مسئولہ میں  14 لاکھ روپے سمیت مرحوم والدین کےجملہ املاک واموال کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر کے، دو دو حصے ہر ایک بیٹے کے اور ایک ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

 
 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143602200033
تاریخ25-11-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں