بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کو خلاف سنت طریقہ سے لقمہ دینے پر نماز کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امام سے غلطی ہوئی امام کو بیٹھنا تھا مگر وہ کھڑا ہو گیا کسی مقتدی امام کو آگاہ کرنے کی نیت سے کھا کہ بیٹھ جاؤ تو امام اس کے کہنے سے بیٹھ گیا ۔ یا امام کو کھڑا ہونا تھا مگر وہ بیٹھ گیا کسی مقتدی امام کو آگاہ کرنے کی نیت سے کھا کہ ـ کھڑے ہو جاؤ تو امام اس کے کہنے پر کھڑا ہو گیا۔ تو کیا ان صورتوں میں صرف مقتدی کی نماز فاسد ہو گی یا امام کی بھی نماز فاسد ہو جائےگی ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مقتدی کی نماز تو فاسد ہوگئی البتہ امام کی نماز کے فساد اور عدم فساد میں تفصیل یہ ہے کہ اگر امام نے اپنی غلطی کی اصلاح خود سوچ کر کی ہو گو امام کے شبھہ کو تقویت مقتدی کے لقمہ سے ملی ہو تو اس صورت میں تو امام کی نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر امام کی اپنی کوئی سوچ یا غلطی کااحساس نہ ہو اورسارا دارومدار مقتدی کے لقمہ ہی پر ہو اور مقتدی کے لقمہ دیتے ہی اس پر عمل کرلیا ہو تواس صورت میں امام کی نماز بھی فاسد ہوجائیگی ۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143602200007
تاریخ25-11-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں