بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سرجری کے ذریعے سر کے ایک حصے کے بال دوسرے حصے میں لگانے کا حکم

سوال

میرے سر کے بال گر چکے ہیں، میں سرجری کے ذریعے بال لگانا چاہتاہوں، جو آج کل عام ہے کہ جدید طریقہ علاج میں سر کے ایک حصے کے بال دوسری جگہ لگا دیے جاتے ہیں، جو بعد میں اسی جگہ بڑھتے ہیں، کیا شرعاً اس طرح سرجری کروا کر سر کے ایک حصے کے بال دوسری جگہ لگانا جائز ہے؟

جواب

سوال میں مذکورہ طریقے کے مطابق انسان کے اپنے بال سر کے ایک حصے سے نکال کر بذریعہ سرجری  دوسرے حصے میں لگانا جائز ہے، تاہم اگر سرجری میں جسم کاٹنے /چیر نے کی مشقت اٹھانی پڑتی ہے تو اس سے اجتناب کرنا چاہیے، کیوں کہ بال لگوانا ایسی ضرورت نہیں ہے جس کے لیے آپریشن کی مشقت برداشت کی جائے. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143601200017
تاریخ04-11-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں