بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹی قسم کا کفارہ

سوال

جان یا مال و اسباب بچانے کے لئے اللہ کی جھوٹی قسم کھائی تو اس کے لئے کفارہ واجب ہے؟ جزا ک اللہ۔

 
 

جواب

جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہے البتہ جان ومال کاخطرہ ہو تو ایسی صورت میں جان ومال کے تحفظ کے لیئے جھوٹی قسم کھانے کی نوبت آجائے تو صریح جھوٹ سےبچتے ہوئے گول مول الفاظ سے قسم کھالی جائے۔ واللہ اعلم

 
 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143601200015
تاریخ04-11-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں