بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لیڈو کھیلنے کا حکم

سوال

لیڈو کھیلنا جب کہ اس میں نمازوں کا خیال رکھا جائے اور شرط نہ لگائی جائے جائز ہے یا نہیں؟ اور لیڈو کا کاروبار کیسا ہے، جب کہ اس میں تصویر نہ ہو۔

جواب

لیڈو کھیلنا، چاہے شرط نہ بھی لگائی گئی ہو، درست نہیں ۔ اور اس کی خرید وفروخت ایک مکروہ کام میں تعاون ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143601200002
تاریخ04-11-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں