بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچے کی ولادت سے قبل صرف دل میں کوئی نام رکھنے کی نیت کرنے سے قسم یا منت منعقد نہیں ہوتی

سوال

میں نے کافی عرصہ پہلے جب نہ تو میری کوئی منگنی ہوئی تھی اور نہ ہی شادی، اس وقت ایک عاشق رسول ﷺ کا واقعہ پڑھ کر دل میں کہا کہ جب مجھے اللہ پاک نے کوئی بیٹا دیا تو اس کا نام عاشق رسول ﷺ غازی علم دین شہید کے نام پر رکھوں گا۔ دسمبر 2013 میں میری شادی ہوئی اور اکتوبر 2014 میں اللہ پاک نے بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ اب ابو جان ،امی جان اور ساری بہنیں اس نام کے خلاف ہیں کہ یہ پرانا نام ہے ۔میں نے گھر میں لڑائی اور بد مزگی سے بچنے کے لیئے اب انکے کہنے پر بیٹے کا نام محمد عفان رکھا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس قسم یا منت کا کوئی کفارہ دینا ہو گا؟اور محمد عفان نام کیسا ہے؟

جواب

علم الدین نام رکھنے کی دل میں نیت کرنے سے کوئی قسم یا منت منعقد نہیں ہوئی اور نہ اس نام کی تبدیلی پر کوئی کفارہ لازم ہے۔عفان کا معنی ہےبہت معاف کرنے والا، محمد عفان نام رکھنا درست ہے۔واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143512200034
تاریخ12-10-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں