بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ادھار خرید وفروخت میں رقم میں زیادتی کا حکم

سوال

میرے ایک دوست کو رکشہ خریدنا ہے، اس کے پاس رقم نہیں ہے، وہ قسطوں پر ڈیڑھ لاکھ کا لے رہا ہے۔ وہی رکشہ نقد میں پچھتر ہزار کا ہے۔ ایسے میں ہم ہی میں سے ایک دوست نہ اس کو آفر کی کہ میں تقد میں خرید کر تمہیں ایک لاکھ میں بیچ دوں گا۔ تم مجھے پانچ ہزار ماہانہ دے دینا۔ اس سودے پر دونوں راضی ہیں۔ برائے مہربانی بتادیں کہ کیا یہ سودا سود تو نہیں۔

جواب

یہ خرید و فروخت کا معاملہ ہے، پچھتر ہزار میں نقد خرید کر نفع رکھ کر لاکھ روہے میں ادھار پر بیچا جا رہا ہے، اس لیے یہ سود نہیں،ادہار خرید وفروخت کا معاملہ ہے اور جائز ہے۔ البتہ رکشہ خریدنے کے بعد خریدار بیچنے کا اور جس کو چاہیے وہ لازمی طور پر خریدنے کا پابند نہیں۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143512200011
تاریخ30-09-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں