دل میں طلاق کا خیال آنا
سوال
اگر کوئی شخص کوئی کا م کر رہا ہو اور اس کے دل میں اجائے کہ اگر یہ کام اسطرح ہو جائے تو مجھ پر طلاق، اور اِس کے جواب میں ٹھیک ہے یا صحیح ہے بھی اس کے دل میں آ جائے ، کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے اگر وہ کام اسی طرح سے ہو؟
جواب
جب تک زبان سے طلاق کا لفظ نہ کہا جائے صرف دل میں طلاق کا خیال آجانے سے طلاق واقع نہیں ہوتی چاہےوہ کام اسی طرح ہو جائے جس طرح سوچا تھا۔
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143512200007
تاریخ27-09-2014

