بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سامان کی سامان کے بدلے ادھار خرید وفروخت

سوال

ہم واشنگ مشین اور ریفریجٹر کا کاروبار کرتے ہیں، ہمارے ساتھ بازار میں نو دس دکانیں ہیں، ہمارے پاس اکثر گاہک آتے ہیں، ایک گاہک واشنگ مشین یا فین لینے آتے ہیں۔اگر وہ ہمارے پاس اس وقت موجود نہیں ہوتا ہم اس وقت وہ سامان کسی اور دکان دار سے لے لیتے ہیں، اور گاہک کو دے دیتے ہیں۔  پھر جب ہمارے پاس مال آتاہے تو تو وہ لی ہوئی مشین واپس اس دکان دار کو دے دیتے ہیں۔کیا یہ سامان کے بدلے اس طرح ادھار سامان کرنا سود تو نہیں؟

 

 

جواب

مذکورہ سامان کی سامان کے بدلے ادھار خرید وفروخت درست ہے۔

اس مسئلہ کی دوتین صورتیں بن سکتی ہیں۔کچھ جائز کچھ ناجائز

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143511200027
تاریخ11-09-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں