بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک ملازم کا اجتماعی قربانی میں قرض لے کر حصہ رکھوانا

سوال

بینک میں ملازمت پیشہ افراد مدرسہ اسلامیہ کے زیر انتظام اجتماعی قربانی میں حصہ لینا چاہتے ہیں اگر وہ کسی سے قرض لے کر حصہ ڈالیں جس کی آمدن حلال ھو تو کیا یہ طریقہ ٹھیک ہےیا بینک میں ملازمت کرنے والا کبھی بھی اجتماعی قربانی میں حصہ نہیں لے سکتا جب تک وہ بینک میں ملازم ہے؟ براءے مہربانی جواب جلد دیں نوازش ہو گی.جزاک اللہ خیراً.

جواب

حرام آمدن والا شخص، حلال آمدن والے شخص سے قرضہ لے کر، ان پیسوں سے اجتماعی قربانی میں شرکت کر سکتا ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143511200016
تاریخ17-09-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں