بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق دے کر انکار کرنا

سوال

میرے والد نے میری والدہ کو کسی کے سامنے طلاق نہیں دی نہ ہی میری والدہ کو طلاق کا لفظ کہا ہے۔ لیکن انہوں نے سب میں مشہور کیا ہوا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ ہمارے پوچھے پر اس کی تایید بھی کی تب ہم نے کہا کہ اب ہماری والدہ پر آپ کا کوئی حق نہیں، ہمارا گھر تین منزلہ ہے لیکن داخلی راستہ ایک ہی ہے۔ والد نے صاف کہہ دیا کہ والدہ اب اس گھر میں نہیں رہیں گی، کیوں کہ ان کو طلاق ہو چکی ہے اور وہ اس گھر میں نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ والدہ نے عدت بھی گاؤں میں گزاری۔ اب والد انکار کرتے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے، اور کہانیاں بنا کر مفتیوں سے فتوی لے کرآتے ہیں۔ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

آپ کی بتائی ہوئی تفصیل کے مطابق آپ کی والدہ کو طلاق ہوچکی ہے۔ اگر والد انکار کرنے پر بضد ہیں تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ خاندان کے سرکردہ افراد کے سامنے ایک صاحب علم مفتی کو فیصل اور ثالث بنا کر معاملے کا تصفیہ کروالیں۔ فقط

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143511200012
تاریخ14-09-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں