بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اسلامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ

سوال

بینک اسلامی میں سیونگ اکاونٹ کھولنا چاہتا ہوں مگر میں نے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی کی ویب سائٹ پر پڑھاکہ بینک اسلامی اور میزان بینک سودی ہے حالانکہ ان کے ویب سائٹ پر فتوی بھی ہے جس پر دارالافتا جامعہ بنوريہ سائٹ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی اسٹیمپ بھی ہے میرا تعلق دیوبند سے ہے اب میں کیا سمجھوں یہ بینک اسلامی ہے یا سودی؟

جواب

موجودہ زمانے میں اسلامی بینکنگ کے نام سے جتنے بھی بینک کام کر رہے ہیں ہماری تحقیق کے مطابق وہ اسلامی نہیں ہیں،ان کا غیر اسلامی اور غیر شرعی ہونا ہماری ویب سائٹ پر وضاحت کے ساتھ مذکور ہے،اوران میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز ہے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔جامعہ بنوریہ سائٹ ایک الگ ادارہ ہےاور مفتی تقی صاحب دامت برکاتھم العالیہ ایک الگ ادارے سے منسلک ہیں،اور یہ سارے ادارے مسلک حقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود مختلف رائے رکھتے ہیں۔جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور ملک کے بیشتر اداروں اور علماء کی رائے سے جامعہ بنوریہ سائٹ اور مفتی تقی صاحب دامت برکاتھم العالیہ کی رائے مختلف ہے،ان کی رائے کے بارے میں خود انہی سے استفسار کیا جائے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143511200008
تاریخ14-09-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں