بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں تقسیم جائیداد

سوال

ایک باپ جوکہ زندہ ھے اپنی جایداد اپنے چار بیٹوں ایک بیٹی اور بیوی میں کسطرح تقسیم کرےگا ۔ اور کیا ایک بیٹے کو اپنی جایداد سے محروم کرسکتا ھے؟جواب سے مستفید فرمایے ۔

جواب

ہر شخص زندگی میں اپنے مال و جائداد پر مکمل تصرف کا حق رکھتا ہے، جس کو جتنا چاہے دے دے۔ اس سلسلے میں تجربات کی روشنی میں والد کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر کوئی ناگزیر صورت نہ ہو، تو زندگی میں جائیداد کو مکمل طور پر تقسیم کرنے کا طریقہ اختیار نہ کرے، بسا اوقات اس طرح تقسیم جائیداد کے بعد والدین انتہائی کسمپرسی کا شکار ہوجاتے ہیں، اور اولاد کی جانب سے انہیں کئی ایک تکالیف کا سامنا ہوتا ہے، تاہم اگر تقسیم ہی کرنا پیش نظر ہو تو اولاد کے درمیان برابری کرنا چا ہیے، اس تقسیم میں بیٹا اور بیٹی دونوں کو برابر دیا جائے گا، بلا ضرورت کسی کو کم یا زیادہ دینا درست نہیں۔، بیوی کو بھی حسب ضرورت و خواہش جتنا دینا چاہے دے سکتا ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ دے۔ اگر کوئی بیٹا، یا بیٹی برے کردار کے حامل، نافرمان، یا غلط کاریوں کے عادی ہوں، اور اندیشہ ہو کہ وہ مال اللہ تعالی کی نافرمانی میں خرچ کریں گے، تو ان کو کچھ نہ دینا چاہیے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143511200004
تاریخ31-08-2014

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں